ہائے وہ بانکی ادائیں اُس بت مےخوار کیشوخیاں گفتار کی اٹکھیلیاں رفتار کی
کوندتی رہتی ہے بجلی آتشِ رخسار کیآ گئی تُجھ پر طبیعت کافر و دین دار کی
کبھی راتوں کی کروٹیں کبھی دن کی بےچینیاں .. اے محبت ! خدا کے واسطے ذرا محبت سے پیش آ.
No comments:
Post a Comment